غزل 5 اشعار

نقش خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز

Naqsh-e Khayal Dil Se Mitaya Nahin Hanooz

نقش خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوزبے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز

وہ سر جو تیری راہ گزر میں تھا سجدہ ریزمیں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز

محراب جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسےسینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز

بے ہوش ہو کے جلد تجھے ہوش آ گیامیں بد نصیب ہوش میں آیا نہیں ہنوز

مر کر بھی آئے گی یہ صدا قبر جوشؔ سےبے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز

— جوش ملیح آبادی