غزل 6 اشعار

گردن میں ہیں وہ باہیں گردش میں ہیں پیمانے

Gardan mein hain woh baahen gardish mein hain paimaane

گردن میں ہیں وہ باہیں گردش میں ہیں پیمانےکیا دین ہے کیا دنیا شاعر کی بلا جانے

کچھ سیکھ سکیں شاید آبادیاں شہروں سےاے راہروو ٹھہرو کچھ کہتے ہیں ویرانے

مطرب وہ اٹھے پردے ساقی وہ کھلے عقدےہاں یوں ہی دمادم دے پیمانوں پہ پیمانے

ہم عشق سے کیا واقف واقف ہیں تو صرف اتناآغاز ہلاکت ہے انجام خدا جانے

جو غنچہ و شبنم تھے کل رات کے ہونٹوں پراب صبح کے کانوں پر نشتر ہیں وہ افسانے

اے جوشؔ الجھتا ہے کیوں شیخ سبک سر سےوو عشق کو کیا سمجھے وہ حسن کو کیا جانے

— جوش ملیح آبادی