غزل 13 اشعار

سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی

Saboo utha ke faza seem-e khaam hai saaqi

سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقیفراز کوہ پہ ماہ تمام ہے ساقی

چنے ہوئے ہیں پیالے جھکی ہوئی بوتلنیا قعود نرالا قیام ہے ساقی

بہ ناز مغچگان و بہ فیض نعرۂ ہوہمائے ارض و سما زیر دام ہے ساقی

فضا پہ نہر پرافشان تاب حور و طہورغنا میں شہر قصور و خیام ہے ساقی

یہ کون شاہد مستی فروش و نغمہ نوازنفس کے تار پہ گرم خرام ہے ساقی

نہ اسم و جسم نہ حرف و نفس نہ سایہ و نقلیہ کیا طلسم یہ کیسا مقام ہے ساقی

رکے نہ دور کہ اب تک بہ زیر چرخ کبودریا حلال ہے صہبا حرام ہے ساقی

بنام آدم و حوا پلا کہ گرم سرودنسیم روضۂ دارالسلام ہے ساقی

سبوئے قلعہ شکن کی سپر عنایت کرکہ تیغ دور زماں بے نیام ہے ساقی

اگر غذائے خیال و نظر سے ہے محرومحیات ذہن کا ماہ صیام ہے ساقی

تمام دولت دنیا و دیں پہ بھاری ہےوہ دل جو بستۂ حب انام ہے ساقی

عجب نہیں کہ تجھے بھی پسند آئے یہ قولجھکے نہ دل تو عبادت حرام ہے ساقی

صفات و ذات کے ایوان روح پرور تکسبو سے فاصلۂ نیم گام ہے ساقی

— جوش ملیح آبادی