غزل 10 اشعار

حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے

Hairat Hai Aah Subh Ko Saari Faza Sune

حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنےلیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا سنے

فریاد عندلیب سے کانپے تمام باغلیکن نہ گل نہ غنچہ نہ باد صبا سنے

خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کانکوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے

یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورش حیاتدرد آشنا کی بات نہ درد آشنا سنے

شاہوں کے دل تو سنگ ہیں شاہوں کا ذکر کیایہ بھی نہیں کہ حال گدا کا گدا سنے

عالم ہے یہ کہ گوش بشر تک ہے بے نیازہونا تھا یہ کہ بندہ کہے اور خدا سنے

سنتے بھی ہیں جو لوگ تو یوں داستان غمجیسے یزید سانحۂ کربلا سنے

ہاں اے خدائے عرش بریں و بتان فرشتم میں سے ہو کوئی تو مرا ماجرا سنے

پشمینہ پوش راہ نشینوں کی التجاشاید کبھی وہ شاہد اطلس قبا سنے

ہم نادر و یزید نہ حجاج ہیں نہ شمراللہ اور جوشؔ ہماری دعا سنے

— جوش ملیح آبادی