نظم 12 اشعار

حسن بیمار

Husn-e-Beemaar

کیا غضب ہے حسن کے بیمار ہونے کی صداجیسے کچی نیند سے بیدار ہونے کی ادا

انکسار حسن پلکوں کے جھپکنے میں نہاںنیم وا بیمار آنکھوں سے مروت سی عیاں

جنبش مژگاں میں غلطاں ساز غم کا زیر و بمخامشی میں پر فشاں ایفائے پیماں کی قسم

احترام عشق کی رو دل نشیں آواز میںایک پھیکے پن کا سناٹا دیار ناز میں

الاماں آنکھوں کی نیم افسردہ سی افسوں گریایک دھندلا سا تبسم اک تھکی سی دلبری

چوڑیاں ڈھیلی دلائی پر شکن ماتھے پہ ہاتلب پہ خشکی رخ پہ سوندھا پن نظر میں التفات

ہلکی ہلکی جھلکیاں رخسار پر یوں نور کیجیسے گل پر صبح کاذب کی سہانی چاندنی

لے رہا ہے کروٹیں عارض میں یوں رنگ شبابجس طرح موج خراماں پر ضیائے ماہتاب

حسن یوں کھویا ہوا سا بزم محسوسات میںجیسے دونوں وقت ملتے ہوں بھری برسات میں

یوں ہے اک روشن نمی سی چشم سحر انداز میںصبح کو شبنم ہو جیسے معرض پرواز میں

جیسے کہرے میں کوئی تابندہ منظر دور کاجیسے پچھلی رات کے سینے پہ ڈورا نور کا

ایسے اضمحلال پر دنیا کی برنائی نثارایسی بیماری پر اعجاز مسیحائی نثار

— جوش ملیح آبادی