نظم 39 اشعار

ضعیفہ

Zaeefah

اک ضعیفہ راستے میں سو رہی ہے خاک پرمردنی چھائی ہوئی ہے چہرۂ غم ناک پر

اور کس موسم میں جب طاعون ہے پھیلا ہواذرہ ذرہ ہے وبا کے خوف سے سمٹا ہوا

رات آدھی آ چکی ہے بام و در خاموش ہیںاہل دولت لیلئ عشرت سے ہم آغوش ہیں

اس قیامت کی ہے طاری ظلمت ہول آفریںشب کے دل میں صبح کا گویا تصور تک نہیں

پیچھے پیچھے آ رہا ہے کون یہ کیا بات ہےبج رہے ہیں کان اف کیسی بھیانک رات ہے

حلقۂ ظلمت میں ہے راہوں کی سہمی روشنییا چمکتی ہیں گھنی جھاڑی سے آنکھیں شیر کی

لرزہ بر اندام ہے صحن زمیں کا عرض و طولہو رہا ہے خاک پر ناپاک روحوں کا نزول

آ رہی ہیں آسماں سے یہ صدائیں دم بہ دمدیکھ اسباب ہلاکت پر نہ پڑ جائے قدم

بام و در پر موت کا پرچم ہے لہرایا ہواآ رہی ہے ہر قدم پر بوئے انفاس وبا

رونگٹے سارے کھڑے ہیں سانس لینا ہے وبالالاماں شور سگان راہ و غوغائے شغال

اف لرزتی خوفناک آواز چوکیدار کینبض چھوٹی جا رہی ہے گنبد دوار کی

چپکے چپکے سانس لینے سے گھٹا جاتا ہے دمرکھ رہا ہوں بولتے ذروں پہ رک رک کر قدم

عبرت و دہشت کا خنجر ہے دل غم ناک پرہائے یہ بے دم پڑا ہے کون ٹھنڈی خاک پر

آہ اے بے کس ضعیفہ غم کی تڑپائی ہوئیاے زمانے کی جھنجھوڑی زر کی ٹھکرائی ہوئی

میرے دل کے آئنے کو کر رہا ہے چور چورتیرے سر پر رہ گزر کی شمع کا ہلکا سا نور

یہ ترے سر کی سفیدی اور یہ گرد ملالمیں تو کیا شرما رہا ہے خود خدائے ذو الجلال

بھوک کے لشکر کا ہے رخ پر ترے گرد و غبارعہد رازاقی کے ماتھے پر عرق ہے آشکار

تیرے بچے تیرے گردوں کے ستارے کیا ہوئےاے ضعیفہ تیری پیری کے سہارے کیا ہوئے

آہ اے دکھیا یہ کیسی پائمالی ہو گئیٹھوکریں کھانے کو تیری گود خالی ہو گئی

سو رہا ہے تیرا وارث کس طرف پہنے کفندفن ہے کس دیس میں تیرا عروسی بانکپن

بزم عشرت میں دلہن کس نے بنایا تھا تجھےبیاہ کر کون اپنے گھر میں آہ لایا تھا تجھے

خون رخ پر دوڑتا ہوگا تری آواز سےتجھ کو پالا ہوگا تیری ماں نے کس کس ناز سے

ڈالتی ہوگی تجھے نہلا دھلا کر سر میں تیلباپ کا دل کھینچتا ہوگا تری گڑیوں کا کھیل

پاس کی تاثیر کیوں چہرے پہ دونی ہو گئیمائکا ویراں ہوا سسرال سونی ہو گئی

چاہنے والے ترے سب تربتوں میں سو گئےکھیلتی تھی جن گھنے باغوں میں وہ کیا ہو گئے

اف ری مایوسی کسی کا آسرا رکھتی نہیںشبہ ہوتا ہے کہ تو شاید خدا رکھتی نہیں

تو کہاں کی رہنے والی ہے ترا کیا نام ہےبول تو کس دل نشیں آغاز کا انجام ہے

ہند میں انسانیت کا دور ہی باقی نہیںدرد ہو کس طرح کوئی مرد ہی باقی نہیں

مرد ہی ہوتے تو کرتے بیکسوں کا احتراممرد ہی ہوتے تو رہ سکتے تھے یوں بن کر غلام

خدمت اغیار سے فرصت کوئی پاتا نہیںسچ ہے اپنوں پر غلاموں کو ترس آتا نہیں

اے ضعیفہ ننگ ہے تو ملک و ملت کے لیےتو ہے اک دھبا جبین اہل دولت کے لیے

اک کھلی ذلت ہے ادیان و ملل کے واسطےطوق ہے لعنت کا تو اہل دول کے واسطے

تو وعید قہر ہے ارباب عشرت کے لیےبرص کا اک داغ ہے روئے حکومت کے لیے

مجھ کو حیرت ہے کہ تجھ کو دیکھ کر زار و نزارگڑ نہیں جاتے حیا سے حاکمان ذی وقار

دیکھ کر تیرا ڈھلا منکا نہیں ہوتا ہے چورگردنوں کے خم کو سختی بخشنے والا غرور

پڑ نہیں جاتے الٰہی سینہ دولت میں داغبجھ نہیں جاتے شبستان امارت کے چراغ

اپنی تاب زر سے اے سرمایہ دارو! ہوشیاراپنے تاجوں کی چمک سے تاجدارو ہوشیار

نیلم و یاقوت سے شعلے بھڑک اٹھنے کو ہیںسرخ دیناروں میں انگارے دہک اٹھنے کو ہیں

فرش گل والو زمیں پر لوگ محو خواب ہیںخرمنوں کے پاسبانو بجلیاں بیتاب ہیں!!

— جوش ملیح آبادی