غزل 6 اشعار

جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے

Jab se marne ki ji mein thani hai

جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہےکس قدر ہم کو شادمانی ہے

شاعری کیوں نہ راس آئے مجھےیہ مرا فن خاندانی ہے

کیوں لب التجا کو دوں جنبشتم نہ مانوگے اور نہ مانی ہے

آپ ہم کو سکھائیں رسم وفامہربانی ہے مہربانی ہے

دل ملا ہے جنہیں ہمارا ساتلخ ان سب کی زندگانی ہے

کوئی صدمہ ضرور پہنچے گاآج کچھ دل کو شادمانی ہے

— جوش ملیح آبادی