غزل 7 اشعار

قدم انساں کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے

Qadam insaan ka raah-e-dahr mein tharra hi jata hai

قدم انساں کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہےچلے کتنا ہی کوئی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے

نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا پھر بھیہجوم کشمکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے

خلاف مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں مگر ناصحوہ آتے ہیں تو چہرے پر تغیر آ ہی جاتا ہے

ہوائیں زور کتنا ہی لگائیں آندھیاں بن کرمگر جو گھر کے آتا ہے وہ بادل چھا ہی جاتا ہے

شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کیمصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے

شگوفوں پر بھی آتی ہیں بلائیں یوں تو کہنے کومگر جو پھول بن جاتا ہے وہ کمھلا ہی جاتا ہے

سمجھتی ہیں مآل گل مگر کیا زور فطرت ہےسحر ہوتے ہی کلیوں کو تبسم آ ہی جاتا ہے

— جوش ملیح آبادی