غزل 8 اشعار

جی میں آتا ہے کہ پھر مژگاں کو برہم کیجیے

Ji mein aata hai ke phir mizhgaan ko barham kijiye

جی میں آتا ہے کہ پھر مژگاں کو برہم کیجیےکاسۂ دل لے کے پھر دریوزۂ غم کیجیے

گونجتا تھا جس سے کوہ بے ستون و دشت نجدگوش جاں کو پھر انہیں نالوں کا محرم کیجیے

حسن بے پروا کو دے کر دعوت لطف و کرمعشق کے زیر نگیں پھر ہر دو عالم کیجیے

دور پیشیں کی طرح پھر ڈالیے سینے میں زخمزخم کی لذت سے پھر تیار مرہم کیجیے

صبح سے تا شام رہیے قصۂ عارض میں گمشام سے تا صبح ذکر زلف برہم کیجیے

دن کے ہنگاموں کو کیجیے دل کے سناٹے میں غرقرات کی خاموشیوں کو وقف ماتم کیجیے

دائمی آلام کا خوگر بنا کر روح کوناگہانی حادثوں کی گردنیں خم کیجیے

غیظ کی دوڑی ہوئی ہے لہر سی اصنام میںجوشؔ اب اہل حرم سے دوستی کم کیجیے

— جوش ملیح آبادی