غزل 11 اشعار

نمایاں منتہائے سعئ پیہم ہوتی جاتی ہے

Numaayaan muntaha-e sai-e paiham hoti jaati hai

نمایاں منتہائے سعئ پیہم ہوتی جاتی ہےطبیعت بے نیاز ہر دو عالم ہوتی جاتی ہے

اٹھی جاتی ہے دل سے ہیبت آلام روحانیجراحت بہر قلب زار مرہم ہوتی جاتی ہے

کنارا کر رہا ہے روح سے ہیجان سرتابیکہ گردن جستجو کے شوق میں خم ہوتی جاتی ہے

جنوں کا چھا رہا ہے زندگی پر اک دھندلکا ساخرد کی روشنی سینے میں مدھم ہوتی جاتی ہے

نسیم بے نیازی آ رہی ہے بام گردوں سےعروس مدعا کی زلف برہم ہوتی جاتی ہے

نمایاں ہو چلا ہے اک جہاں چشم تصور پرنظر شاید حریف ساغر جم ہوتی جاتی ہے

گرہ یوں کھل رہی ہے ہر نفس ذوق تماشا کیکہ ہر ادنیٰ سی شے اب ایک عالم ہوتی جاتی ہے

فضا میں کانپتی ہیں دھندلی دھندلی نقرئی شکلیںہر اک تخیئل پاکیزہ مجسم ہوتی جاتی ہے

نہ جانے سینۂ احساس پر یہ ہات ہے کس کاطبیعت بے نیاز شادی و غم ہوتی جاتی ہے

سمجھ میں آئیں کیا باریکیاں قانون قدرت کیعبادت کثرت معنی سے مبہم ہوتی جاتی ہے

خجل تھا جس کی شورش سے تلاطم بحر ہستی کامرے دل میں وہ ہلچل جوشؔ اب کم ہوتی جاتی ہے

— جوش ملیح آبادی