نظم 53 اشعار

کسان

Kisaan

جھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطرابکھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب

دشت کے کام و دہن کو دن کی تلخی سے فراغدور دریا کے کنارے دھندلے دھندلے سے چراغ

زیر لب ارض و سما میں باہمی گفت و شنودمشعل گردوں کے بجھ جانے سے اک ہلکا سا دود

وسعتیں میدان کی سورج کے چھپ جانے سے تنگسبزۂ افسردہ پر خواب آفریں ہلکا سا رنگ

خامشی اور خامشی میں سنسناہٹ کی صداشام کی خنکی سے گویا دن کی گرمی کا گلا

اپنے دامن کو برابر قطع سا کرتا ہواتیرگی میں کھیتیوں کے درمیاں کا فاصلا

خار و خس پر ایک دردانگیز افسانے کی شانبام گردوں پر کسی کے روٹھ کر جانے کی شان

دوب کی خوشبو میں شبنم کی نمی سے اک سرورچرخ پر بادل زمیں پر تتلیاں سر پر طیور

پارہ پارہ ابر سرخی سرخیوں میں کچھ دھواںبھولی بھٹکی سی زمیں کھویا ہوا سا آسماں

پتیاں مخمور کلیاں آنکھ جھپکاتی ہوئینرم جاں پودوں کو گویا نیند سی آتی ہوئی

یہ سماں اور اک قوی انسان یعنی کاشت کارارتقا کا پیشوا تہذیب کا پروردگار

جس کے ماتھے کے پسینے سے پئے عز و وقارکرتی ہے دریوزۂ تابش کلاہ تاجدار

سرنگوں رہتی ہیں جس سے قوتیں تخریب کیجس کے بوتے پر لچکتی ہے کمر تہذیب کی

جس کی محنت سے پھبکتا ہے تن آسانی کا باغجس کی ظلمت کی ہتھیلی پر تمدن کا چراغ

جس کے بازو کی صلابت پر نزاکت کا مدارجس کے کس بل پر اکڑتا ہے غرور شہریار

دھوپ کے جھلسے ہوئے رخ پر مشقت کے نشاںکھیت سے پھیرے ہوئے منہ گھر کی جانب ہے رواں

ٹوکرا سر پر بغل میں پھاوڑا تیوری پہ بلسامنے بیلوں کی جوڑی دوش پر مضبوط ہل

کون ہل ظلمت شکن قندیل بزم آب و گلقصر گلشن کا دریچہ سینۂ گیتی کا دل

خوش نما شہروں کا بانی راز فطرت کا سراغخاندان تیغ جوہر دار کا چشم و چراغ

دھار پر جس کی چمن پرور شگوفوں کا نظامشام زیر ارض کو صبح درخشاں کا پیام

ڈوبتا ہے خاک میں جو روح دوڑاتا ہوامضمحل ذروں کی موسیقی کو چونکاتا ہوا

جس کے چھو جاتے ہی مثل نازنین مہ جبیںکروٹوں پر کروٹیں لیتی ہے لیلائے زمیں

پردہ ہائے خواب ہو جاتے ہیں جس سے چاک چاکمسکرا کر اپنی چادر کو ہٹا دیتی ہے خاک

جس کی تابش میں درخشانی ہلال عید کیخاک کے مایوس مطلع پر کرن امید کی

طفل باراں تاجدار خاک امیر بوستاںماہر آئین قدرت ناظم بزم جہاں

ناظر گل پاسبان رنگ و بو گلشن پناہناز پرور لہلہاتی کھیتیوں کا بادشاہ

وارث اسرار فطرت فاتح امید و بیممحرم آثار باراں واقف طبع نسیم

صبح کا فرزند خورشید زر افشاں کا علممحنت پیہم کا پیماں سخت کوشی کی قسم

جلوۂ‌ قدرت کا شاہد حسن فطرت کا گواہماہ کا دل مہر عالم تاب کا نور نگاہ

قلب پر جس کے نمایاں نور و ظلمت کا نظاممنکشف جس کی فراست پر مزاج صبح و شام

خون ہے جس کی جوانی کا بہار روزگارجس کے اشکوں پر فراغت کے تبسم کا مدار

جس کی محنت کا عرق تیار کرتا ہے شراباڑ کے جس کا رنگ بن جاتا ہے جاں پرور گلاب

قلب آہن جس کے نقش پا سے ہوتا ہے رقیقشعلہ خو جھونکوں کا ہمدم تیز کرنوں کا رفیق

خون جس کا بجلیوں کی انجمن میں باریابجس کے سر پر جگمگاتی ہے کلاہ آفتاب

لہر کھاتا ہے رگ خاشاک میں جس کا لہوجس کے دل کی آنچ بن جاتی ہے سیل رنگ و بو

دوڑتی ہے رات کو جس کی نظر افلاک پردن کو جس کی انگلیاں رہتی ہیں نبض خاک پر

جس کی جانکاہی سے ٹپکاتی ہے امرت نبض تاکجس کے دم سے لالہ و گل بن کے اتراتی ہے خاک

ساز دولت کو عطا کرتی ہے نغمے جس کی آہمانگتا ہے بھیک تابانی کی جس سے روئے شاہ

خون جس کا دوڑتا ہے نبض استقلال میںلوچ بھر دیتا ہے جو شہزادیوں کی چال میں

جس کا مس خاشاک میں بنتا ہے اک چادر مہینجس کا لوہا مان کر سونا اگلتی ہے زمین

ہل پہ دہقاں کے چمکتی ہیں شفق کی سرخیاںاور دہقاں سر جھکائے گھر کی جانب ہے رواں

اس سیاسی رتھ کے پہیوں پر جمائے ہے نظرجس میں آ جاتی ہے تیزی کھیتیوں کو روند کر

اپنی دولت کو جگر پر تیر غم کھاتے ہوئےدیکھتا ہے ملک دشمن کی طرف جاتے ہوئے

قطع ہوتی ہی نہیں تاریکیٔ حرماں سے راہفاقہ کش بچوں کے دھندلے آنسوؤں پر ہے نگاہ

سوچتا جاتا ہے کن آنکھوں سے دیکھا جائے گابے ردا بیوی کا سر بچوں کا منہ اترا ہوا

سیم و زر نان و نمک آب و غذا کچھ بھی نہیںگھر میں اک خاموش ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں

ایک دل اور یہ ہجوم سوگواری ہائے ہائےیہ ستم اے سنگ دل سرمایہ داری ہائے ہائے

تیری آنکھوں میں ہیں غلطاں وہ شقاوت کے شرارجن کے آگے خنجر چنگیز کی مڑتی ہے دھار

بیکسوں کے خون میں ڈوبے ہوئے ہیں تیرے ہاتکیا چبا ڈالے گی او کمبخت ساری کائنات

ظلم اور اتنا کوئی حد بھی ہے اس طوفان کیبوٹیاں ہیں تیرے جبڑوں میں غریب انسان کی

دیکھ کر تیرے ستم اے حامئ امن و اماںگرگ رہ جاتے ہیں دانتوں میں دبا کر انگلیاں

ادعائے پیروی دین و ایماں اور تودیکھ اپنی کہنیاں جن سے ٹپکتا ہے لہو

ہاں سنبھل جا اب کہ زہرے اہل دل کے آب ہیںکتنے طوفان تیری کشتی کے لیے بے تاب ہیں

— جوش ملیح آبادی