غزل 13 اشعار

صبح بالیں پہ یہ کہتا ہوا غم خوار آیا

Subh baleen pe yeh kehta hua gham-khwar aaya

صبح بالیں پہ یہ کہتا ہوا غم خوار آیااٹھ کہ فریاد رس عاشق بیمار آیا

بخت خوابیدہ گیا ظلمت شب کے ہم راہصبح کا نور لیے دولت بیدار آیا

خیر سے باغ میں پھر غنچہ گل رنگ کھلاشکر ہے دور میں پھر ساغر سرشار آیا

جھوم اے تشنۂ گل بانگ نگار عشرتکہ لب یار لیے چشمۂ گفتار آیا

شکر ایزد کہ وہ سرخیل مسیحا نفساںزلف بر دوش پئے پرسش بیمار آیا

رخصت اے شکوۂ قسمت کہ سر بزم نشاطناسخ مسئلہ اندک و بسیار آیا

للہ الحمد کہ گلزار میں ہنگام صبوححکم آزادئ مرغان گرفتار آیا

غنچۂ بستہ چٹک جاگ اٹھی موج صباشعلۂ حسن بھڑک مصر کا بازار آیا

خوش ہو اے عشق کہ پھر حسن ہوا مائل نازمژدہ اے جنس محبت کہ خریدار آیا

اے نظر شکر بجا لا کہ کھلی زلف درازاے صدف آنکھ اٹھا ابر گہربار آیا

بادباں ناز سے لہرا کے چلی باد مرادکارواں عید منا قافلہ سالار آیا

خوش ہو اے گوش کہ جبریل ترنم چہکامژدہ اے چشم کہ پیغمبر انوار آیا

خوش ہو اے پیر مغاں جوشؔ ہوا نغمہ فروشمژدہ اے دختر رز رند قدح خوار آیا

— جوش ملیح آبادی