غزل 30 اشعار

موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کون

Mauj-e darya pe chha raha hai yeh kaun

موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کونسیج پر رسمسا رہا ہے یہ کون

صبح پنگھٹ پہ ہو رہی ہے طلوعرخ سے کاکل ہٹا رہا ہے یہ کون

ادھ کھلی انکھڑیوں کو مل مل کرجوئے‌ پل میں نہا رہا ہے یہ کون

بوجھل انفاس کے تلاطم سےبے صدا جھنجھنا رہا ہے یہ کون

آنچ گویا ہوا میں زیر و زبرنیند میں سنسنا رہا ہے یہ کون

سطح دریا پہ چاندنی جیسےچونک کر مسکرا رہا ہے یہ کون

کروٹوں کے گرائے تکیوں کوکسمسا کر اٹھا رہا ہے یہ کون

روئے نا شستہ کے دھندلکے میںرس کی بوندیں گرا رہا ہے یہ کون

ایک انگڑائی سے دو عالم کوراگنی میں جھلا رہا ہے یہ کون

نیند کی رو میں شمع کے مانندصبح کو جھلملا رہا ہے یہ کون

شرم سے چمپئی کلائی میںسبز چوڑی گھما رہا ہے یہ کون

دیر صبح بہار کی زنجیررنگ رخ سے ہلا رہا ہے یہ کون

انکھڑیاں جلد جلد جھپکا کرسرخ ڈورے بجا رہا ہے یہ کون

کردگارا مرے در دل کوصبح دم کھٹکھٹا رہا ہے یہ کون

تیغ دوشیزگی کے پانی سےآگ دل میں لگا رہا ہے یہ کون

تہ بہ تہ کر کے بیچ کی انگلیبند مٹھی بجا رہا ہے یہ کون

زیر دنداں دبا کے سرخ انگشتعمر اپنی بتا رہا ہے یہ کون

جو بہت دور جا چکا تھا اسےپاس اپنے بلا رہا ہے یہ کون

عہد شیب و شباب کے مابینفاصلوں کو ہٹا رہا ہے یہ کون

گل پڑا ہے جو ایک مدت سےاس دئے کو جلا رہا ہے یہ کون

سو چکی ہے جو اک زمانے سےاس خلش کو جگا رہا ہے یہ کون

میری صحت سے بد مزا ہو کرروگ دل کو لگا رہا ہے یہ کون

ایک مدت سے جو مفکر ہےاس کو مطرب بنا رہا ہے یہ کون

مجھ سے مغرور و بد دماغ کا سراپنے در پر جھکا رہا ہے یہ کون

کوری آنکھوں کے تازہ اشکوں سےاک نیا گل کھلا رہا ہے یہ کون

سوز پنہاں میں ڈھال کر مکھڑاساز میرے ہلا رہا ہے یہ کون

عقل کے قصر بے نیازی پرناز کے گھن چلا رہا ہے یہ کون

میری دانش وری کے لوہے کوتاب رخ سے گلا رہا ہے یہ کون

مجھ میں اک گونہ بے رخی پا کرخود کشی سے ڈرا رہا ہے یہ کون

جوشؔ میرے کھنڈر کو از سر نوراجدھانی بنا رہا ہے یہ کون

— جوش ملیح آبادی