غزل 11 اشعار

صیاد دام زلف سے مجھ کو رہا کرے

Sayyad dam-e zulf se mujh ko riha kare

صیاد دام زلف سے مجھ کو رہا کرےوہ دن تمام عمر نہ آئے خدا کرے

لے دے کے رہ گیا ہے یہی ایک آسراایسا کبھی نہ ہو کہ وہ ترک وفا کرے

مجھ بے نوا کے ناز اٹھائے وہ نازنیںسلطان اور کاوش قرب گدا کرے

دامان بوئے کاکل شب رنگ چھوڑ دےیا رب کبھی یہ ظلم نہ باد صبا کرے

جس کے مرض پہ صحت عالم نثار ہوکس طرح وہ مریض دعائے شفا کرے

بت جس پہ ملتفت ہو بہ حد سپردگیزندیق ہے اگر وہ خدا سے دعا کرے

عمر دراز و پختگی فکر نکتہ سنجکہتی ہے خام کام مجھے ہاں کہا کرے

اس روئے دل نشیں پہ نگاہیں جمی رہیںفریاد کر رہی ہے بصیرت کہ کیا کرے

اب دام حسن و عشق سے نکلوں نہ تا بہ مرگگھر جل رہا ہے عقل رسا کا جلا کرے

حکمت نمک حرام ہوں بے شک ترا مگرجس پر پڑے یہ وقت وہ بچارا کیا کرے

یا رب حصار نجد سے اب اٹھ سکے نہ جوشؔیونان دے رہا ہے دہائی دیا کرے

— جوش ملیح آبادی