غزل 15 اشعار

سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے

Sarshar Hoon Sarshar Hai Duniya Mere Aage

سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگےکونین ہے اک لرزش صہبا مرے آگے

ہر نجم ہے اک عارض روشن مرے نزدیکہر ذرہ ہے اک دیدۂ بینا مرے آگے

ہر جام ہے نظارۂ کوثر مرے حق میںہر گام ہے گلگشت مصلےٰ مرے آگے

ہر پھول ہے لعل شکر افشاں کی حکایتہر غنچہ ہے اک حرف تمنا مرے آگے

اک مضحکہ ہے پرسش عقبیٰ مرے نزدیکاک وہم ہے اندیشۂ فردا مرے آگے

ہوں کتنی ہی تاریک شب زیست کی راہیںاک نور سا رہتا ہے جھلکتا مرے آگے

میں اور ڈروں صولت دنیائے دنی سےخود لرزہ بر اندام ہے دنیا مرے آگے

جھکتا ہے بصد عجز کلیسا مرے در پرآتا ہے لرزتا ہوا کعبہ مرے آگے

پیمانے سے جس وقت چھلک جاتی ہے صہبالہراتا ہے اک حسن کا دریا مرے آگے

جب چاند جھمکتا ہے مرے ساغر زر میںچلتا نہیں خورشید کا دعویٰ مرے آگے

جب جھوم کے مینا کو اٹھاتا ہوں گھٹا میںہلتا ہے سر گنبد مینا مرے آگے

آتی ہے دلہن بن کے مشیت کی جلو میںآوارگئ آدم و حوا مرے آگے

پیمانے پہ جس وقت جھکاتا ہوں صراحیجھکتا ہے سر عالم بالا مرے آگے

پہلو میں ہے اک زہرہ جبیں ہاتھ میں ساغراس وقت نہ دنیا ہے نہ عقبیٰ مرے آگے

جوشؔ اٹھتی ہے دشمن کی نظر جب مری جانبکھلتا ہے محبت کا دریچا مرے آگے

— جوش ملیح آبادی