غزل 5 اشعار

یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں

Yeh baat yeh tabassum yeh naaz yeh nigahen

یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیںآخر تمہیں بتاؤ کیونکر نہ تم کو چاہیں

اب سر اٹھا کے میں نے شکوؤں سے ہات اٹھایامر جاؤں گا ستم گر نیچی نہ کر نگاہیں

کچھ گل ہی سے نہیں ہے روح نمو کو رغبتگردن میں خار کی بھی ڈالے ہوئے ہے بانہیں

اللہ ری دل فریبی جلووں کے بانکپن کیمحفل میں وہ جو آئے کج ہو گئیں کلاہیں

یہ بزم جوشؔ کس کے جلووں کی رہ گزر ہےہر ذرے میں ہیں غلطاں اٹھتی ہوئی نگاہیں

— جوش ملیح آبادی