نظم 15 اشعار

ساون کے مہینے

Saawan Ke Maheene

فردوس بنائے ہوئے ساون کے مہینےاک گل رخ و نسریں بدن و سرو سہی نے

ماتھے پہ ادھر کاکل ژولیدہ کی لہریںگردوں پہ ادھر ابر خراماں کے سفینے

مینہ جتنا برستا تھا سر دامن کہساراتنے ہی زمیں اپنی اگلتی تھی دفینے

اللہ رے یہ فرمان کہ اس مست ہوا میںہم منہ سے نہ بولیں گے اگر پی نہ کسی نے

وہ مونس و غم خوار تھا جس کے لیے برسوںمانگی تھیں دعائیں مرے آغوش تہی نے

گل ریز تھے ساحل کے لچکتے ہوئے پودےگل رنگ تھے تالاب کے ترشے ہوئے زینے

بارش تھی لگاتار تو یوں گرد تھی مفقودجس طرح مئے ناب سے دھل جاتے ہیں سینے

دم بھر کو بھی تھمتی تھیں اگر سرد ہوائیںآتے تھے جوانی کو پسینے پہ پسینے

بھر دی تھی چٹانوں میں بھی غنچوں کی سی نرمیاک فتنۂ کونین کی نازک بدنی نے

گیتی سے ابلتے تھے تمنا کے سلیقےگردوں سے برستے تھے محبت کے قرینے

کیا دل کی تمناؤں کو مربوط کیا تھاسبزے پہ چمکتی ہوئی ساون کی جھڑی نے

بدلی تھی فلک پر کہ جنوں خیز جوانیبوندیں تھیں زمیں پر کہ انگوٹھی کے نگینے

شاخوں پہ پرندے تھے جھٹکتے ہوئے شہ پرنہروں میں بطیں اپنے ابھارے ہوئے سینے

اس فصل میں اس درجہ رہا بے خود و سرشارمیخانے سے باہر مجھے دیکھا نہ کسی نے

کیا لمحۂ فانی تھا کہ مڑ کر بھی نہ دیکھادی کتنی ہی آواز حیات ابدی نے

— جوش ملیح آبادی