6 اشعار

جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں

Jism par baqi ye sar hai kya karoon

جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں

«جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروںدست قاتل بے ہنر ہے کیا کروں

چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کوشہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں

وہ تو سو سو مرتبہ چاہیں مجھےمیری چاہت میں کسر ہے کیا کروں

پاؤں میں زنجیر کانٹے آبلےاور پھر حکم سفر ہے کیا کروں

کیفؔ کا دل کیفؔ کا دل ہے مگروہ نظر پھر وہ نظر ہے کیا کروں

کیفؔ میں ہوں ایک نورانی کتابپڑھنے والا کم نظر ہے کیا کروں

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں