13 اشعار

تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میں

Tehzeeb ka hai hukm,,, ke bazaar-e-aam mein

تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میںکپڑوں پہ کوئی خاک اُڑا دے تو چُپ رہو

گالی جو کوئی دے تو پلٹ کر نہ دیکھناٹوپی اُتار کر جو بھگا دے تو چُپ رہو

مذہب کا حکم ہے ،،، کہ عمل نیک ہو تِرانیکی میں تیری جان بھی جائے ، تو صبر کر

بچّے کو تیرے جب کہ نہ ھڈی بھی ہو نصِیبکتّا کوئی پُلاؤ بھی کھائے ، تو صبر کر

قانون کا ہے حکم ،،، کہ بھیڑیں بنے رہوحدِ اَدب سے پاؤں بڑھایا ، تو جُرم ہے

حق ہے مہاجنوں کا ، ستاتے رہیں تو ٹھیکلیکن ،،، کِسی نے اُن کو ستایا ، تو جُرم ہے

فطرت کا حکم ہے ،،، کہ بھرو پیٹ ہر طرحکھاتے ہُوئے کے مُنہ کا نِوالہ ہی کیوں نہ ہو

سر توڑ کر وصُول کرو بُھوک کا خراجکوئی پٹھان ، یا کوئی لالہ ہی کیوں نہ ہو

جب ہاتھ تنگ ہو تو گھروں میں اتر پڑوتاریک رات ، دِن کا اُجالا ہی کیوں نہ ہو

دَھکّا جو کوئی دے تو گِرا دو زمین پررشکِ صنوبر و قدِ بالا ہی کیوں نہ ہو

گالی جو کوئی دے تو زباں کھینچ لِیجئےچاہے کِسی رئیس کا سالا ہی کیوں نہ ہو

ہر ظُلم کا جواب تشدد سے دِیجئےاس کا ہدف خُود افسرِ اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو

اے آدمی پُکار تُجھے کیا پسند ہےوَرنہ پھر آج سے درِ تقدیر بند ہے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں