جس پہ تری شمشیر نہیں ہے
کلام: کیف بھوپالی
جس پہ تری شمشیر نہیں ہےاس کی کوئی توقیر نہیں ہے
اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خطخون سے کیوں تحریر نہیں ہے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
جس پہ تری شمشیر نہیں ہےاس کی کوئی توقیر نہیں ہے
اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خطخون سے کیوں تحریر نہیں ہے
جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروںدست قاتل بے ہنر ہے کیا کروں
چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کوشہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں