6 اشعار

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے

Sirf itne jurm par hangama hota jaaye hai

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے

«صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہےتیرا دیوانہ تری گلیوں میں دیکھا جائے ہے

آپ کس کس کو بھلا سولی چڑھاتے جائیں گےاب تو سارا شہر ہی منصور بنتا جائے ہے

دلبروں کے بھیس میں پھرتے ہیں چوروں کے گروہجاگتے رہیو کہ ان راتوں میں لوٹا جائے ہے

تیرا مے خانہ ہے یا خیرات خانہ ساقیااس طرح ملتا ہے بادہ جیسے بخشا جائے ہے

مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھواپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے

موت آئی اور تصور آپ کا رخصت ہواجیسے منزل تک کوئی رہ رو کو پہونچا جائے ہے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں