10 اشعار

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

Tan tanhaa muqabil ho raha hoon main hazaron se

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

«تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سےحسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے

انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے

سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہےپہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے

ہمارے داغ دل زخم جگر کچھ ملتے جلتے ہیںگلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے

کبھی ہوتا نہیں محسوس وہ یوں قتل کرتے ہیںنگاہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے

ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہےکنوؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے

نہ آئے پر نہ آئے وہ انہیں کیا کیا خبر بھیجیلفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے

زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیںامیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے

وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھادشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے

کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گےمناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں