تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میں
کلام: کیف بھوپالی
تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میںکپڑوں پہ کوئی خاک اُڑا دے تو چُپ رہو
گالی جو کوئی دے تو پلٹ کر نہ دیکھناٹوپی اُتار کر جو بھگا دے تو چُپ رہو
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میںکپڑوں پہ کوئی خاک اُڑا دے تو چُپ رہو
گالی جو کوئی دے تو پلٹ کر نہ دیکھناٹوپی اُتار کر جو بھگا دے تو چُپ رہو