10 اشعار

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز

Aye hama rang hama noor hama soz-o-gudaz

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز

«اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گدازبزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی

تو جہاں تھی اسی جنت میں نکھرتا ترا روپاس جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی

یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسماور دل جس پہ خد و خال کی نرمی بھی نثار

خار ہی خار شرارے ہی شرارے ہیں یہاںاور تھم تھم کے اٹھا پاؤں بہاروں کی بہار

تشنگی زہر بھی پی جاتی ہے امرت کی طرحجانے کس جام پہ رک جائے نگاہ معصوم

ڈوبتے دیکھا ہے جن آنکھوں میں مے خانہ بھیپیاس ان آنکھوں کی بجھے یا نہ بجھے کیا معلوم

ہیں سبھی حسن پرست اہل نظر صاحب دلکوئی گھر میں کوئی محفل میں سجائے گا تجھے

تو فقط جسم نہیں شعر بھی ہے گیت بھی ہےکون اشکوں کی گھنی چھاؤں میں گائے گا تجھے

تجھ سے اک درد کا رشتہ بھی ہے بس پیار نہیںاپنے آنچل پہ مجھے اشک بہا لینے دے

تو جہاں جاتی ہے جا، روکنے والا میں کوناپنے رستے میں مگر شمع جلا لینے دے

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں