کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا
کلام: کیفی اعظمی
کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیاکتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آج
اس سلیقے سے سجائی گئی بزم گیتیتو بھی دیوار اجنتا سے اتر آئی آج
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیاکتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آج
اس سلیقے سے سجائی گئی بزم گیتیتو بھی دیوار اجنتا سے اتر آئی آج
اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گدازبزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی
تو جہاں تھی اسی جنت میں نکھرتا ترا روپاس جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی