15 اشعار

دائرہ

Daira

دائرہ

«دائرہ» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگےپھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوں

بارہا توڑ چکا ہوں جن کوانہیں دیواروں سے ٹکراتا ہوں

روز بستے ہیں کئی شہر نئےروز دھرتی میں سما جاتے ہیں

زلزلوں میں تھی ذرا سی گرمیوہ بھی اب روز ہی آ جاتے ہیں

جسم سے روح تلک ریت ہی ریتنہ کہیں دھوپ نہ سایہ نہ سراب

کتنے ارمان ہیں کس صحرا میںکون رکھتا ہے مزاروں کا حساب

نبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ہےدل کا معمول ہے گھبرانا بھی

رات اندھیرے نے اندھیرے سے کہاایک عادت ہے جئے جانا بھی

قوس اک رنگ کی ہوتی ہے طلوعایک ہی چال بھی پیمانے کی

گوشے گوشے میں کھڑی ہے مسجدشکل کیا ہو گئی مے خانے کی

کوئی کہتا تھا سمندر ہوں میںاور مری جیب میں قطرہ بھی نہیں

خیریت اپنی لکھا کرتا ہوںاب تو تقدیر میں خطرہ بھی نہیں

اپنے ہاتھوں کو پڑھا کرتا ہوںکبھی قرآں کبھی گیتا کی طرح

چند ریکھاؤں میں سیماؤں میںزندگی قید ہے سیتا کی طرح

رام کب لوٹیں گے معلوم نہیںکاش راون ہی کوئی آ جاتا

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں