11 اشعار

سومنات

Somnath

سومنات

«سومنات» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

بت شکن کوئی کہیں سے بھی نہ آنے پائےہم نے کچھ بت ابھی سینے میں سجا رکھے ہیں

اپنی یادوں میں بسا رکھے ہیںدل پہ یہ سوچ کے پتھراؤ کرو دیوانو

کہ جہاں ہم نے صنم اپنے چھپا رکّھے ہیںوہیں غزنی کے خدا رکّھے ہیں

بت جو ٹوٹے تو کسی طرح بنا لیں گے انہیںٹکڑے ٹکڑے سہی دامن میں اٹھا لیں گے انہیں

پھر سے اجڑے ہوئے سینے میں سجا لیں گے انہیںگر خدا ٹوٹے گا ہم تو نہ بنا پائیں گے

اس کے بکھرے ہوئے ٹکڑے نہ اٹھا پائیں گےتم اٹھا لو تو اٹھا لو شاید

تم بنا لو تو بنا لو شایدتم بناؤ تو خدا جانے بناؤ کیسا

اپنے جیسا ہی بنایا تو قیامت ہوگیپیار ہوگا نہ زمانے میں محبت ہوگی

دشمنی ہوگی عداوت ہوگیہم سے اسکی نہ عبادت ہو گی

وحشتِ بت شکنی دیکھ کے حیران ہوں میںبت پرستی میرا شیوہ ہے کہ انسان ہوں میں

اک نہ اک بت تو ہر اک دل میں چھپا ہوتا ہےاس کے سو ناموں میں اک نام خدا ہوتا ہے

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں