3 اشعار

جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا

Jo woh mere na rahe main bhi kab kisi ka raha

جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا

«جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہابچھڑ کے ان سے سلیقہ نہ زندگی کا رہا

لبوں سے اڑ گیا جگنو کی طرح نام اس کاسہارا اب مرے گھر میں نہ روشنی کا رہا

گزرنے کو تو ہزاروں ہی قافلے گزرےزمیں پہ نقش قدم بس کسی کسی کا رہا

— کیفی اعظمی