6 اشعار

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا

Kahin se laut ke hum larkharaye hain kya kya

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا

«کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیاستارے زیر قدم رات آئے ہیں کیا کیا

نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکےفراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا

جب اس نے ہار کے خنجر زمیں پہ پھینک دیاتمام زخم جگر مسکرائے ہیں کیا کیا

چھٹا جہاں سے اس آواز کا گھنا بادلوہیں سے دھوپ نے تلوے جلائے ہیں کیا کیا

اٹھا کے سر مجھے اتنا تو دیکھ لینے دےکہ قتل گاہ میں دیوانے آئے ہیں کیا کیا

کہیں اندھیرے سے مانوس ہو نہ جائے ادبچراغ تیز ہوا نے بجھائے ہیں کیا کیا

— کیفی اعظمی