6 اشعار

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

Khar-o-khas to uthein rasta to chale

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

«خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلےمیں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے

چاند سورج بزرگوں کے نقش قدمخیر بجھنے دو ان کو ہوا تو چلے

حاکم شہر یہ بھی کوئی شہر ہےمسجدیں بند ہیں مے کدہ تو چلے

اس کو مذہب کہو یا سیاست کہوخودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے

اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پاؤں گاآپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے

بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیںمیں کہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے

— کیفی اعظمی