20 اشعار

کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا

Kitni rangeen hai faza kitni haseen hai duniya

کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا

«کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیاکتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آج

اس سلیقے سے سجائی گئی بزم گیتیتو بھی دیوار اجنتا سے اتر آئی آج

رونمائی کی یہ ساعت یہ تہی دستیٔ شوقنہ چرا سکتا ہوں آنکھیں نہ ملا سکتا ہوں

پیار سوغات، وفا نذر، محبت تحفہیہی دولت ترے قدموں پہ لٹا سکتا ہوں

کب سے تخئیل میں لرزاں تھا یہ نازک پیکرکب سے خوابوں میں مچلتی تھی جوانی تیری

میرے افسانے کا عنوان بنی جاتی ہےڈھل کے سانچے میں حقیقت کے کہانی تیری

مرحلے جھیل کے نکھرا ہے مذاق تخلیقسعئ پیہم نے دیے ہیں یہ خد و خال تجھے

زندگی چلتی رہی کانٹوں پہ، انگاروں پرجب ملی اتنی حسیں، اتنی سبک چال تجھے

تیرے قامت میں ہے انساں کی بلندی کا وقاردختر شہر ہے، تہذیب کا شہکار ہے تو

اب نہ جھپکے گی پلک، اب نہ ہٹیں گی نظریںحسن کا میرے لیے آخری معیار ہے تو

یہ ترا پیکر سیمیں، یہ گلابی ساریدست محنت نے شفق بن کے اڑھا دی تجھ کو

جس سے محروم ہے فطرت کا جمال رنگیںتربیت نے وہ لطافت بھی سکھا دی تجھ کو

آگہی نے تری باتوں میں کھلائیں کلیاںعلم نے شکریں لہجے میں نچوڑے انگور

دل ربائی کا یہ انداز کسے آتا تھاتو ہے جس سانس میں نزدیک اسی سانس میں دور

یہ لطافت، یہ نزاکت، یہ حیا، یہ شوخیسو دیے جلتے ہیں امڈی ہوئی ظلمت کے خلاف

لب شاداب پہ چھلکی ہوئی گلنار ہنسیاک بغاوت ہے یہ آئین جراحت کے خلاف

حوصلے جاگ اٹھے سوز یقیں جاگ اٹھانگہ ناز کے بے نام اشاروں کو سلام

تو جہاں رہتی ہے اس ارض حسیں پر سجدہجن میں تو ملتی ہے ان راہ گزاروں کو سلام

آ قریب آ کہ یہ جوڑا میں پریشاں کر دوںتشنہ کامی کو گھٹاؤں کا پیام آ جائے

جس کے ماتھے سے ابھرتی ہیں ہزاروں صبحیںمری دنیا میں بھی ایسی کوئی شام آ جائے

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں