6 اشعار

پتھر کے خدا وہاں بھی پائے

Patthar ke Khuda wahan bhi paye

پتھر کے خدا وہاں بھی پائے

«پتھر کے خدا وہاں بھی پائے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

پتھر کے خدا وہاں بھی پائےہم چاند سے آج لوٹ آئے

دیواریں تو ہر طرف کھڑی ہیںکیا ہو گئے مہربان سائے

جنگل کی ہوائیں آ رہی ہیںکاغذ کا یہ شہر اڑ نہ جائے

لیلیٰ نے نیا جنم لیا ہےہے قیس کوئی جو دل لگائے

ہے آج زمیں کا غسل صحتجس دل میں ہو جتنا خون لائے

صحرا صحرا لہو کے خیمےپھر پیاسے لب فرات آئے

— کیفی اعظمی