6 اشعار

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

Main dhoondhta hun jise woh jahan nahin milta

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

«میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتانئی زمین نیا آسماں نہیں ملتا

نئی زمین نیا آسماں بھی مل جائےنئے بشر کا کہیں کچھ نشاں نہیں ملتا

وہ تیغ مل گئی جس سے ہوا ہے قتل مراکسی کے ہاتھ کا اس پر نشاں نہیں ملتا

وہ میرا گاؤں ہے وہ میرے گاؤں کے چولھےکہ جن میں شعلے تو شعلے دھواں نہیں ملتا

جو اک خدا نہیں ملتا تو اتنا ماتم کیوںیہاں تو کوئی مرا ہم زباں نہیں ملتا

کھڑا ہوں کب سے میں چہروں کے ایک جنگل میںتمہارے چہرے کا کچھ بھی یہاں نہیں ملتا

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں