5 اشعار

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

Shor yun hi na parindon ne machaya hoga

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

«شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگاکوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا

پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھاجسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیںکس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا

بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھیسوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا

اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسےہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

— کیفی اعظمی