6 اشعار

سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے

Suna karo meri jaan un se un se afsane

سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے

«سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے

یہاں سے جلد گزر جاؤ قافلے والوہیں میری پیاس کے پھونکے ہوئے یہ ویرانے

مرے جنون پرستش سے تنگ آ گئے لوگسنا ہے بند کیے جا رہے ہیں بت خانے

جہاں سے پچھلے پہر کوئی تشنہ کام اٹھاوہیں پہ توڑے ہیں یاروں نے آج پیمانے

بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینامجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے

ہوا ہے حکم کہ کیفیؔ کو سنگسار کرومسیح بیٹھے ہیں چھپ کے کہاں خدا جانے

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں