ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو
کلام: خواجہ میر درد
ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کو
تجھے اے شمع کیا دیکھیں زمانے کو دکھانا ہےہمیں جوں کاغذ آتش زدہ اور ہی چراغاں کو
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کو
تجھے اے شمع کیا دیکھیں زمانے کو دکھانا ہےہمیں جوں کاغذ آتش زدہ اور ہی چراغاں کو