6 اشعار

قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی

Qasam hai Hazrat-e-Dil hi ke aastaane ki

قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی

«قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کیہوس ہو جی میں جو دیر و حرم کے جانے کی

طریق اپنے پہ اک دور جام چلتا ہےوگرنہ جو ہے سو گردش میں ہے زمانے کی

کیا جگر کو مرے داغ تیرے وعدوں نےخبر سنی جو کہیں میں کسو کے آنے کی

نظر نہ کیجیو تو میرے دل کے خطروں پرنہ جی میں لائیو کچھ بات کیا دوانے کی

جفا و جور اٹھانے پڑے زمانے کےہوس تھی جی میں کسو ناز کے اٹھانے کی

طریق ذکر تو ہے دردؔ یاد عالم کوترا بتائے کچھ اپنے تئیں بھلانے کی

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں