6 اشعار

وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے

Wahdat ne har taraf tere jalwe dikha diye

وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے

«وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیےپردے تعینات کے جو تھے اٹھا دیے

ہوں کشتہ تغافل ہستی بے ثباتخاطر سے کون کون نہ اس نے بھلا دیے

روتی ہے چشم اب تئیں یہ تیری داد خواہکتنے ہی تیغ ابرو نے قصے چکا دئے

دونوں جہاں کی نہ رہی پھر خبر اسےدو پیالے تیری آنکھوں نے جس کو پلا دیے

چاہو وفا کرو نہ کرو اختیار ہےخطرے جو اپنے جی میں تھے وہ سب اٹھا دیے

سیلاب اشک گرم نے اعضا مرے تماماے دردؔ کچھ بہا دئے اور کچھ جلا دیے

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں