6 اشعار

اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے

Aye maut unhein bhulaye zamaane guzar gaye

اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے

«اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے» خمار بارہ بنکوی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)» میں 2 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئےآ جا کہ زہر کھائے زمانے گزر گئے

او جانے والے آ کہ ترے انتظار میںرستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاسسب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

کیا لائق ستم بھی نہیں اب میں دوستوپتھر بھی گھر میں آئے زمانے گزر گئے

جان بہار پھول نہیں آدمی ہوں میںآ جا کہ مسکرائے زمانے گزر گئے

کیا کیا توقعات تھیں آہوں سے اے خمارؔیہ تیر بھی چلائے زمانے گزر گئے

— خمار بارہ بنکوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں