7 اشعار

مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ

Mujh ko yeh jaan o dil qubool naghme ko naghma hi samajh

مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ

«مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ» خمار بارہ بنکوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)» میں 2 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھ

عشق ہے تشنگی کا نام توڑ دے گر ملے بھی جامشدت تشنگی نہ دیکھ لذت تشنگی سمجھ

حسن کی مہربانیاں عشق کے حق میں زہر ہیںحسن کے اجتناب تک عشق کی زندگی سمجھ

ترک تعلقات بھی عین تعلقات ہےآگ بجھی ہوئی نہ جان آگ دبی ہوئی سمجھ

عقل کے کاروبار میں دل کو بھی رکھ شریک کاردل کے معاملات میں عقل کو اجنبی سمجھ

غنچہ و گل کے ساتھ ساتھ دل کی طرف بھی اک نظرشیفتۂ شگفتگی وجہ شگفتگی سمجھ

ایسے بھی راز ہیں خمارؔ ہوتے نہیں جو آشکاراپنی ہی مشکلیں نہ دیکھ ان کی بھی بے بسی سمجھ

— خمار بارہ بنکوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں