7 اشعار

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

Ek pal mein ek sadi ka maza hum se poochhiye

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

«اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے» خمار بارہ بنکوی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)» میں 2 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہمقسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

آغاز عاشقی کا مزا آپ جانئےانجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے

جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاںسرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے

وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہےآنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھئے

ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرحہنسئے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھئے

ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمارؔتوہین مے کشی کا مزا ہم سے پوچھئے

— خمار بارہ بنکوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں