7 اشعار

خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا

Khush biyabaan mein magar shehr mein darna us ka

خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا

«خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کاکاسہ ہاتھوں میں لیے گھر میں بھی پھرنا اس کا

دل دکھا کے کبھی ہنسنا کبھی رونا اس کامیرے آنگن میں لکھا تھا نہیں بسنا اس کا

اس نے تنہائی میں بھی انجمن آرائی کیچاند نے دیکھ لیا آنکھوں کو بھرنا اس کا

میں نے دیکھا ہے سر شام اداسی کا خرامپاؤں میں چھالے پہن کے نہ ٹھہرنا اس کا

آئنہ دیکھنا منظور نہیں تھا اس کولطف دیتا تھا ہوا بن کے گزرنا اس کا

ہر خلش آن کے رکتی تھی مری بانہوں میںزندگی دیکھتی رہتی تھی تڑپنا اس کا

ہے عجب طرز ملاقات عجب طرز سفرپاس آ کے نہ ٹھہرنا نہ گزرنا اس کا

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں