8 اشعار

خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے

Khwab mein aaye mujhe mujh se milaye

خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے

«خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائےمجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے

خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زادخواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد

کتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفقخون کی آنچوں سے دہک کر پھیلے

آتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھیاندیشوں سے انجان لگے

جاگے خدشے بھی خد و خال تمنا سے ہوں مبہوتہر اک عزلت جاں شوق کی شمشیر لیے

پھیل کے ساحل پایاب کو غارت کر دےمرقد‌ حیلۂ بے سود مٹے

کچھ اگر ہے تو ملےکوئی گر ہے تو چلا آئے مجھے مجھ سے ملائے

مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں