16 اشعار

کتے اور خرگوش

Kutte aur khargosh

کتے اور خرگوش

«کتے اور خرگوش» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

دو خرگوش تھے پیارے پیارےاک موتی اک ہیرا

موتی کالے کانوں والاہیرا بھورا بھورا

دو کتوں نے دیکھا ان کوچین سے یوں جو بیٹھا

منہ میں ایک کے پانی آیادوسرا فوراً لپکا

چین سے کونے میں بیٹھے تھےسوچتے تھے کہ جائیں

سامنے کے کھیتوں سے دو اکگاجریں توڑ کے لائیں

بھاگے سرپٹ دیکھ کے کتےدونوں ہی خرگوش

موت نظر آتی تھی ان کواور نہ تھا کچھ ہوش

بھاگتے بھاگتے ہیرا بولایہ کتے ہیں شکاری

موتی بولا تم پاگل ہوعقل خراب تمہاری

ہیرے کو غصہ پھر آیاپھلا کے دم وہ بولا

تم نے مجھ کو کیا سمجھا ہےکر دوں تم کو سیدھا

ادھر وہ آپس میں لڑتے تھےادھر وہ کتے پہنچے

دونوں خرگوشوں کی جانبدونوں کتے لپکے

خرگوشوں نے بحث میں پڑ کےہائے جان گنوائی

سچ ہے بعد میں پچھتانے سےکس نے عزت پائی

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں