7 اشعار

یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے

Yeh hausla tujhe mehtab-e-jaan hua kaise

یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے

«یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسےکہ خود کو سائے سے منہا کیا بتا کیسے

نظر تو کیا کہ یہ مینائے دل بھی خالی ہےلگے گا شہر میں بازار خوں بہا کیسے

مجھے خبر ہے کہ موسم نہیں یہ خواہش کامرے لبوں پہ یہ ٹھہرا ہے ذائقہ کیسے

خدائی نوحہ کناں تھی کہ آج منبر پہیہ تجھ کو آیا نظر کیا مرے سوا کیسے

تعلقات کے تعویذ بھی گلے میں نہیںملال دیکھنے آیا ہے راستہ کیسے

قفس میں میری پناہوں کو دیکھ حیراں تھاکہ میرے دل میں تھا مقتل کا زائچہ کیسے

ہوا سے جیسے چراغوں کی لو بھڑکتی ہےبہت دنوں میں تجھے دیکھ کے ہنسا کیسے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں