19 اشعار

روایت نہ ٹوٹے

Riwayat na toote

روایت نہ ٹوٹے

«روایت نہ ٹوٹے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

ہم روایات کی کہنہ صدیوں کے پربت تلےوہ گھنے سبز جنگل ہیں جو

بے پناہ شاخ در شاخ تابندگیتازگی کے تموج سے سنولا کے

خود ہی جھلس جائیںایسے جلیں ایسے جلیں

کہ فقط دور تک کوئلہ کوئلہ ہی دکھائی دےاور تازگی کی نمو

خاک سے بھی گواہی نہ دےوہ مقدر کے اچھے

کہ جن کو جلاپے کی مدت گزرنے پہان کوئلوں کی جگہ ہیرے موتی ملے

وہ مقدر کے اچھےکہ جن کی دعائیں زمیں کی تہوں میں وہیں

تو کہیں سونا چاندی بنیںوہ مقدر کے اچھے

کہ جن کے بدن کھولتے خوں کے چشمے تھےاب بھی ہیں

پارے کی کانوں کی صورت کہیںتو کہیں ایسے بھی سخت جانوں کے ہیں سلسلے جا بجا

جن سے فولاد کا نام پایندہ ہےوہ جلن جو کبھی تازگی کے تموج سے پیدا ہوئی

ہے مقدر کی تحریر ایسی کہ جس کی جلن ابتداانتہا بھی جلن

جلتے رہنے کا یہ سانحہ بھی جلنانجمن انجمن

چودھویں رات کے چاند نے بھی کہابھیگی برسات کے رعد نے بھی کہا

تم وہی ہو کہ جن کو چٹخنے کی مہلت بھی ملتی نہیںاب روایت یہی ہے

نبھاؤ ہنسومسکراؤ جلو

ہر اک زرد چہرہ گلابی کروہر اک آنکھ کو ارغوانی کرو

مگر یاد رکھوروایت نہ ٹوٹے

تموج کی ہر تازگی لاکھ جھلسےروایت نہ ٹوٹے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں