نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر
کلام: کشور ناہید
نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کرزمین خشک کو سیراب کر نمی بن کر
رچا ہوا ہے تری کم نگاہیوں کا کرمنشے کی طرح مرے دل میں سر خوشی بن کر
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کرزمین خشک کو سیراب کر نمی بن کر
رچا ہوا ہے تری کم نگاہیوں کا کرمنشے کی طرح مرے دل میں سر خوشی بن کر
خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کاکاسہ ہاتھوں میں لیے گھر میں بھی پھرنا اس کا
دل دکھا کے کبھی ہنسنا کبھی رونا اس کامیرے آنگن میں لکھا تھا نہیں بسنا اس کا