شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی
کلام: کشور ناہید
شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئیاے محبت تجھے دینے کو سلامی آئی
تشنگی اتنی کہ دریا ہے مری آنکھوں میںنا شناسا ترے ہونے کی گواہی آئی
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئیاے محبت تجھے دینے کو سلامی آئی
تشنگی اتنی کہ دریا ہے مری آنکھوں میںنا شناسا ترے ہونے کی گواہی آئی
دو خرگوش تھے پیارے پیارےاک موتی اک ہیرا
موتی کالے کانوں والاہیرا بھورا بھورا