ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے
کلام: کشور ناہید
ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھےیہ خود فریب مگر راہ بھول جاتے تھے
ہمیں عزیز ہیں ان بستیوں کی دیواریںکہ جن کے سائے بھی دیوار بنتے جاتے تھے
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھےیہ خود فریب مگر راہ بھول جاتے تھے
ہمیں عزیز ہیں ان بستیوں کی دیواریںکہ جن کے سائے بھی دیوار بنتے جاتے تھے
ہم روایات کی کہنہ صدیوں کے پربت تلےوہ گھنے سبز جنگل ہیں جو
بے پناہ شاخ در شاخ تابندگیتازگی کے تموج سے سنولا کے