11 اشعار

آرزو تدبیر ہو کر رہ گئی

Ārzū tadbīr ho kar rah gaī

آرزو تدبیر ہو کر رہ گئیجستجو تاخیر ہو کر رہ گئی

سرد سناٹا مسلط ہو گیابے حسی زنجیر ہو کر رہ گئی

سوچ کی آواز کتنی تیز ہےخامشی تقریر ہو کر رہ گئی

جب بھی کی تحریر اپنی داستاںتیری ہی تصویر ہو کر رہ گئی

کاٹ ہے الفاظ کی کتنی شدیدگفتگو شمشیر ہو کر رہ گئی

آہ یہ دن رین کی بے چین سوچجو مری تقدیر ہو کر رہ گئی

صید تخریب خرد ہے زندگیحسرت تعمیر ہو کر رہ گئی

حرف سنجیدہ تھی روداد خردکتنی بے تاثیر ہو کر رہ گئی

عہد حاضر کی کتابی شاعریفکر کی جاگیر ہو کر رہ گئی

میرے فکر و فن کی عظمت آخرششوخی تحریر ہو کر رہ گئی

کرشنؔ موہن خواب کی تعبیر بھیدرد کی تفسیر ہو کر رہ گئی

— کرشن موہن